Saturday, 22 August 2015

1
Heard that you”re not feeling well.
So brought flowers for you to
make you feel Healthier and Happier.
Get Well Soon!

Reducing belly fats in urdu


Aaj kal har doosra shakhs belly fats ko kam karna chahta hai jis k liye woh asan aur quick home remedies ki talash main hota hai. Hum aaj apke liye kuch aisee hi tips aur totkay le kar aa rehe hain.

Belly fats ko reduce karne k liye ye hamari home remdies, tips, totkay aur upay hain.

Totkay/ Upay to Loose Belly Fats:

1. Lemon pani belly fats ko reduce karne k liye aik azmooda totka hai.

2. Cucumber yani kheera bhi stomach ya belly fats kam karne liye nahayat mofeed hai. Issi tarah kacha tamatar bhi.

3. Apple cinder vinger ko pani main mix karn k peene se bhi stomach fats burn hotey hian.

4. Mint yani podina bhi pait kam karne liye mofeed hai totka hai.

5. Green tea bhi pait km karnay k liye aik achi cheez hai. Quick results k liye green tea din main 2,3 baar istemal karen.

6. Ginger tea yani adrak ki chaye bhi pet kam karti hai. achay nataej k liye lemon aur shehed bhi mix kar lain.

7. Garli tea bhi belly fats yani pait ki faltu charbi ko kam karti hai. 3 clove garlic, 1 lemon ko pani main mix kar k istemal karen.

8. Honey ko water main mix kar subah nehar monh pee lain.

9. Almond yani badam bhi pate km karnay k liye aham hain.



Belly fats reduce karne ki misc. tips aur home remedies:

1. Snacks ka kam istemal karen

2. Meethi cheezain kam khaen.

3. Rice kam khaen

4. Munasib exercise ya walk karen.

5. TV kam dekhen aur active life style apnaen.

6. Phalon aur sabziyon ka ziada istemal karen.

7. Ghair zaroori stress se bachain.

8. Rassa phalangain

9. Carbohydrated drinks kamm peyen

10. Mood acha karne k liye na khaen -sirf uss waqt khaen jab waqee bhook lagay

11. Neend poori lain aur neend ki kami na hony den.



Ziada Belly fats ki common reasons:

1. Junk food ka ziada istemal

2. Chiknai wali aur meethee cheezon ka ziada istemal

3. Bhari khanay ke baad foran so jana

4. Warzish ki kami

5. Aram de lifestyle

6. Moroosi wajoohat

Thursday, 20 August 2015

Health is Wealth Story In Urdu


محنت  سے  زندگی ہے

ایک رات کا ذکر ہے کہ ایک بالٹی میں دو مینڈک گر گئے جو دودھ سے آدھی بھری ہوئی تھی ۔ دونوں مینڈک بالٹی میں ادھر ادھر چھلانگیں لگانے لگے  اور تیرنے لگے ۔ تھوڑی دیر بعد جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ تو بالٹی میں پھنسے ہوئے ہیں اور باہر کا کوئی راستہ  نہیں تو انہوں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی ۔  لیکن بالٹی میں چونکہ دودھ تھا اس لیے اندر سے اس دی دیواریں بہت چکنی تھیں جس کی وجہ سے پھسلن بہت زیادہ تھی۔ بالٹی میں ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جس  پر وہ اپنے ناخن پنسا کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے۔

جب کافی دیر تک کوشش کرنے کے بعد بھی باہر کا کوئی راستہ سجھائی نہ دیا تو ایک مینڈک ہمت ہار گیا، اس نے سوچا کہ اب مزید محنت کرنا بیکار ہے اور اب موت یقینی ہے۔ چونکہ تھکا  ہوا بہت تھا، مزید تیرنے کی ہمت نہ تھی اس لیے بالٹی میں ڈوب گیا اور مر گیا۔

لیکن دوسرا مینڈک  پر امید تھا۔ اس نے حوصلہ نہیں ہارا اور مسلسل محنت جاری رکھی۔ اسے امید تھی کہ یہاں سے نجات کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا، اسی امید پر اس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کوشش کرتا رہا۔ وہ بالٹی میں مسلسل تیرتا رہا اور باہر نکلنے کی تدبیر کرتا رہا۔

بالٹی میں چونکہ دودھ تھا اور دودھ بھی ملائی سے بھرپور تھا ۔ جب کافی وقت گزر گیا  اور مینڈک اس میں مسلسل حرکت کرتا رہا تو دودھ گاڑھا ہو کر دہی کی طرح بن گیا۔ جب مینڈ ک مزید تھوڑی دیر اپنی مشق جاری رکھی تو دودھ مزید گاڑھا ہو گیا اور مکھن کے پیڑے کی مانند ہو گیا۔مکھن چونکہ اوپر تیرتا ہے لہذا  اب مینڈک اس مکھن کے پیڑے پر بیٹھ کر سستا سکتا تھا۔ اس نے وہاں بیٹھ کر کچھ دیر اپنی سانس بحال کی اور پھر ایک ہی چھلانگ میں بالٹی سے باہر جا گرا اور ایک نئی زندگی پا لی۔

اگر یہ مینڈک بھی پہلے مینڈک کی طرح ہمت ہار جاتا تو اس کی موت بھی یقینی تھی۔ لیکن اس کی مسلسل محنت اور لگن نے اسے نئی زندگی عطا کی۔

—–

نعمتوں کا شکر

سارہ بہت پیاری بچی تھی ۔ سچ بولتی ،بڑوں کا ادب کرتی سب سے محبت و اخلاق سے پیش آتی اس وجہ سے  سب اس کو پسند کرتےتھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس میں ایک برائی بھی تھی وہ یہ کہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھی ۔ اس کی امی اس کو بارہا سمجھاتیں کہ بیٹا اللہ نے ہم کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ہم پر فرض ہے  کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں ۔ کہیں ایسا نا ہو کہ اللہ ہم سے ناراض ہوجائے ۔

امی کی سب باتیں سن کر وہ لاپروائی سے کہتی  نہیں امی اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہونگے ۔

لیکن نماز پڑھنے میں ہمیشہ کی طرح لاپروائی برتتی ، امی سمجھا سمجھا کر تھک گئیں تھیں ۔وہ دن بھر کبھی یہاں کبھی وہاں بھاگتی ، دوڑتی رہتی ۔ ہر وقت کھیلتی کودتی رہتی ۔

ایک وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آرہی تھی کہ اس کا پاوں مڑ گیا ،اور پاوں میں موچ آگئی ۔ پاوں میں تکلیف سے وہ رونے لگی ۔امی ابو سب دوڑے ہوئے آئے اس  کو گود میں اٹھا کر نیچے تخت پر بٹھایا اور کریپ بیٍیڈیج سے پٹی کردی ۔ وہ تخت پر ہی بیٹھی رہتی  وہ پاوں زمین پر رکھتی تو تکلیف کی وجہ سے واپس اوپر کرلیتی ۔

اسی طرح کافی دیر وہ وہیں بیٹھی رہی ۔ اس کو تو ایک جگہ بیٹھے رہنے کی عادت ہی نہیں تھی سارا دن وہ اچھلتی  کودتی رہتی تھی ۔

اسی طرح شام ہوگئی ۔ امی ، ابو بہن بھائی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے ۔

اس کو پیاس لگی سامنے کوئی تھا نہیں فریج سامنے تھوڑی دور تھا ۔ اس نے سوچا کہ وہ خود ہی جاکر پانی پی آتی ہے ۔ وہ دوسرے پاوں سے اچھلتی اچھلتی فریج تک گئی اور پانی پی کر واپس آرہی تھی کہ اسے خیال آیا کہ صرف  ایک پاوں کے کام نا کرنے کی وجہ سے  اس کو کتنی تکلیف کا سامنا ہے کہ وہ پانی تک پینے کے لیے اتنی تگ و دو کرنی پڑرہی ہے ۔

اللہ نے اس کو کتنی نعمتیں دیں ۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ، بولنے کو زبان ، سننے کوکان ، کام کرنے کو ہاتھ ، اور چلنے کو پاوں ۔

اگر خدانخواستہ یہ نعمتیں ہم سے چھن جائیں تو ہم کیا کریں گے ۔ ہم تو اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے ۔

یہ سوچ کر وہ رونے لگی اور اللہ سے توبہ کی  اور پکا ارادہ کیا کہ اب وہ پانچوں وقت کی نماز ادا کرے گی انشاءاللہ اور ہر پل اللہ کا شکر ادا کرے گی!!!!!!

Respect Parents in urdu Kahani


ایک بوڑھی ماں اپنے گھر کے گارڈن میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھی تھی- اس کی بیٹی پڑھائی میں شروع سے ہی بہت اچھی تھی اوراسی شوق کو جاری رکھتے ہوئے اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی- گارڈن کے قریب گھر کی دیوار پر اچانک ایک کوا آ کر بیٹھا- اس بوڑھی ماں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ بیٹی نے جواب دیا کہ یہ کوا ہے- تھوڑی دیر کے بعد اس کی ماں نے دوبارہ اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ بیٹی نے جواب دیا کہ یہ کوا ہے-

کچھ منٹ ہی گزرے تھے کہ تیسری دفعہ اس عورت نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس کی بیٹی نے کہا کہ امی میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کو بتایا ہے کہ یہ کوا ہے- کچھ دیراور گزری تھی کہ اس بوڑھی ماں نے چوتھی بار اپنی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس دفعہ اس کی بیٹی کے لحجے میں اسے کچھ جھنجلاہٹ محسوس ہوئی اور اس نے اپنی ماں کو جھڑکتے ہوئے کہا کہ یہ کوا یہ کوا ہے- ایک دفعہ پھر سے اس کی ماں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس دفعہ اس کی بیٹی نے بہت ہی غصے سے اپنی ماں کو بولا کہ امی آپ ہمیشہ ایک سوال کو کئی بار دہراتی ہیں- حالانکہ میں نے آپ کو کئی دفعہ بتایا تھا کہ یہ کوا ہے- آُپ کے سمجھ میں میری بات کیوں نہیں آ رہی ہے؟

اس لڑکی کی ماں اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں ایک پرانی سی ڈائری پکڑ کے واپس آئیں- اس بوڑھی ماں نے اس ڈائری کا ایک صفحہ کھولا اور اپنی بیٹی کو کہا کہ پڑھو اس پر کیا لکھا ہے۔ اس کی بیٹی نے جو الفاظ پڑھے وہ الفاظ اس ڈائری میں کچھ یوں لکھے تھے:

“آج میری چھوٹی سی بیٹی میرے ساتھ گارڈن میں بیٹھی تھی، جب وہاں ایک کوا آ کر بیٹھ گیا- میری بیٹی نے مجھ سے پچیس دفعہ پوچھا کہ یہ کیا ہے اور میں نے اسے پچیس دفعہ بتایا تھا کہ وہ کوا ہے- اس کے بار بار پوچھنے پر بھی مجھے ذرا بھی جھنجھلاہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی- بلکہ مجھے اپنی معصوم بیٹی کے لئے بہت پیار اور محبت محسوس ہو رہی تھی-”

اس کی بوڑھی ماں نے اپنی بیٹی کو ایک ماں اور ایک بیٹی کے روئیے کا فرق ظاہر کیا- انھوں نے بتایا کہ جب تم چھوٹی تھیں تو تم نے مجھ سے ایک سوال پچیس دفعہ پوچھا اور میں تمہیں  جواب دینے میں بالکل بھی تنگ نہیں آئی تھی اور پچیس دفعہ بہت پیار کے ساتھ میں نے تمہیں تمہاری بات کا جواب دیا تھا- اور آج جب میں نے تم سے یہی سوال صرف پانچ بار پوچھا تو تم جھنجھلا گئیں، ناراض ہوئیں اور مجھ پر غصہ کرنے لگیں-

اس کی بیٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا- یہ صرف اس ایک لڑکی کی کہانی نہیں بلکہ آج کل سب ہی لڑکے لڑکیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے غصے پر قابو میں نہیں کر پاتے اور ماں باپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنگ آجاتے ہیں اور ان سے بد تمیزی سے پیش آتے ہیں- وہ بھول جاتے ہیں کہ یہی وہ والدین ہیں جنھوں نے انھیں پالا، ان کی ہر خواہش پوری کی، انھیں اس قابل بنایا کہ آج وہ دنیا میں بڑے فخر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں- ہم سب کو چاہئے کہ اپنے والدین کا احترام کریں اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہ ہوں بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ اور پیار کے ساتھ ان سے پیش آئیں- کیونکہ اگر آج وہ ہماری اچھی تربیت نہ کرتے تو ہم بھی اس معاشرے میں سر اٹھا کر نہ جی رہے ہوتے-
Agar ap ko kahani achi lagi hay to plz comment karain

Ajeeb Kahani


گرمیوں کے دن تھے دوپہر کا وقت ہو رہا تھا- نادیہ جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی کیونکہ اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی- نادیہ اپنے گھر میں دو بہنوں سے چھوٹی تھی اور آٹھویں جماعت کی طالبعلم تھی- نادیہ بہت نازوں سے پلی تھی اور سب کی بہت لاڈلی تھی-

محبت انسان کو کبھی نہ کبھی ہو ہی جاتی ہے  اور بعض اوقات نو عمری میں بھی ہو جاتی ہے- نادیہ بھی حارث کو بہت پسند کرتی تھی- حارث نادیہ سے بڑا تھا، وہ روز نادیہ کے گھر کے برابر میں قائم پارک میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے آتا تھا- یہی واحد موقع ہوتا تھا جب نادیہ حارث کو دیکھا کرتی تھی اور اسی لئے نادیہ کو گھر پہنچنے کی جلدی تھی- حارث نادیہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا بلکہ اسکو تو یہ پتہ بھی نہ تھا کہ کوئی اسے پارک کے اس پار کھڑکی سے دیکھ رہا ہے، اسکی بمشکل ہی اس پار نظر پڑتی تھی- دن اور پھر مہینے بیت گئے لیکن نادیہ حارث کو نہیں بتا سکی کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہے- ایک دن حارث نے پارک آنا چھوڑ دیا، نادیہ بہت پریشان ہوئی اور اسے تلاش کرنے کا سوچا پر اسے سمجھ نہ آیا کے وہ حارث کو کہاں تلاش کرے-  اس نے اپنے ایک دوست کی مدد لینے کا سوچا جو اسکے پڑوس میں رہتا تھا اور حارث کا دوست تھا- اس نے نادیہ کو بتایا کہ اسکے کافی سارے دوست دوسرے شہر منتقل ہوگئے ہیں جن میں حارث بھی شامل تھا- نادیہ کا تو دل ہی ٹوٹ گیا- نادیہ کے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کہاں ڈھونڈے، کیا کرے- آخرکار اس نے سب قسمت پر چھوڑ کر حارث کو بھول جانے کا فیصلہ کیا- لیکن قسمت نے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا- نادیہ اور اسکی فیملی دوسرے شہر منتقل ہوگئے- چار سال گزر گئے اور نادیہ کیلئے حارث سے ملنا ایک خواب بن گیا تھا-

ZindagiKi HaqeeQat Kahani in Urdu


ایک فلاسفی کے پروفیسر اپنی کلاس کے سامنے کھڑے تھے اور ان کے سامنے میز پر کچھ چیزیں رکھی تھیں- جب کلاس شروع ہوئی تو انھوں نے بغیر کچھ کہے ایک بڑی سی خالی مایونیز کی بوتل اٹھائی اور اس میں پتھر بھرنے لگے- انھوں نے تقریبا دو انچ پتھر بھر دئے- پھر انھوں نے پوری کلاس میں موجوس طالبعلموں سے سوال کیا کہ کیا یہ بوتل بھری ہوئی ہے؟ سب ان کی بات سے رضامند تھے اور سب نے جواب دیا کہ ہاں یہ بوتل بھری ہوئی ہے-

اس کے بعد پروفیسر نے کنکروں کا ڈبہ اٹھایا اور ان کنکروں کو اسی بوتل میں ڈالنے لگے- پھر انھوں نے اس بوتل کو تھوڑا سا ہلایا- کنکر پھسل کر ان خلوں میں بھر گئے جو پتھروں کے درمیان تھے- پروفیسر نے ایک دفعہ پھر طالبعلموں سے سوال کیا کہ کیا یہ بوتل بھر چکی ہے؟ ایک بار پھر سب کا جواب یہی تھا کہ ہاں یہ بھر چکی ہے-

اب پروفیسر نے ریت کا ڈبہ اٹھایا اور اسے بوتل میں ڈالنا شروع کیا اور پھر ریت نے تمام خلا جو رہ گئے تھے ان سب کو پر کر دیا- اب کی بار بھی پروفیسر کا سوال وہی تھا کہ کیا یہ بوتل بھری ہوئی ہے؟ اس دفعہ بھی تمام طالبعلم اپنے پروفیسر کی بات سے متفق تھا اور ان سب کا جواب ہاں میں تھا-

پروفیسر نے کہا کہ اب میں تم لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کے یہ بوتل تم سب کی زندگیوں کو ظاہر کرتی ہے- یہ پتھر تمہاری زندگیوں کی سب سے اہم چیزوں کو ظاہر کرتے ہیں، جیسے کہ تمہاری فیملی، تمہارا جیون ساتھی، تمہاری صحت اور تمہارے بچے وغیرہ- یہ وہ چیزیں ہیں کہ اگر تم ان کے علاوہ باقی سب کچھ کھو بھی دو تب بھی تمہاری زندگی بھری ہوئی ہوگی



کنکر ان تمام دوسری چیزوں کو ظاہر کرتے ہیں جو انسانی زندگی میں اہمیت رکھتی ہیں لیکن ان کی اہمیت پتھروں کے مقابلے میں قدرے کم ہے- ان چیزوں میں تمہاری نوکری، گھر اور گاڑی وغیرہ شامل ہیں-

اب بات کرتے ہیں ریت کی تو ریت تمام چھوٹی چھوٹی انسانی خواہشات اور چیزوں کی نمائندگی کرتی ہے- اگر تم سب سے پہلے ریت کو اس بوتل میں بھرو گے تو پھر اس بوتل میں کنکروں اور پتھروں کے لئے جگہ کہاں باقی رہے گی- یہی حال تم سب کی زندگیوں کا ہے-

اگر تم لوگ اپنی تمام تر طاقت اور وقت ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ضائع کر دو گے تو پھر تمہارے پاس ان چیزوں کے لئے جگہ کہاں بچے گی جو تم سب کی زندگیوں میں بہت اہم ہیں- اپنی زندگی میں ان چیزوں پر توجہ دو جو تمہاری خوشی کے لئے بہت ضروری ہیں- اپنے بچوں کے ساتھ کھیلو، اپنے جیون ساتھی کے ساتھ وقت گزارو اور اپنے والدین کی خدمت کرو- تمہارے پاس اب بھی اتنا وقت ہوگا کہ تم کام پر جاسکو، گھر صاف کرسکو اور اپنے معاملات کو حل کرسکو-

آج کل ہر انسان کی زندگی کا مقصد کنکروں اور ریت کو حاصل کرنا ہے- جو صرف وقتی خوشی کا ذریعہ ہیں لیکن ان کو حاصل کرنے میں انسان اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اسے یہ پرواہ بھی نہیں رہتی کہ وہ زندگی کے سب سے اہم پتھروں کو نظرانداز کر رہا ہے-

اپنی زندگیوں میں سب سے زیادہ خیال پتھروں کا رکھو جو تمہاری زندگیوں کا سب سے اہم جز ہیں- زندگی میں ہر رشتے اور ہر شے کی ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے- اگر تم ان چیزوں کی جگہ کے بارے میں جان جاؤ گے تو تم رشتوں کو بہتر طریقے سے نبھا سکتے ہو- باقی جو چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں وہ ریت کے مترادف ہیں اور انھیں اتنی ہی اہمیت دینا سیکھو-

Funny sms

1

Traffice police: Aapko pata hai maine aapko kiyo roka hai?

Girl: Mera mascara kharab ho gaya hai?

Traffic police: nai

Girl: Moti lag rahe hon?

Traffic police: nai

Girl: Mere sath selfie lena hai?

Traffic police: Jao behenji, aap jao galti ho gye rokh ker
2
 DATE
Aap kitny hi Dukh me Q na hon,

koi nahi dekhta..


Aap jitna bhi Ro lo,

Koi nahi dekhta...

Par

1 Din "DATE" per chalay jaao,


Sala Poora Khandan dekh leta hai....;-

3

Urgent
Sardar : Tum bike itni Taiz Q chala rahy ho??

Pathan : Ye Letter Urgent dena hai..

Sardar ; Kahan??

Pathan ; Abhi Address parhny ka Time nahi hai..

Sardar : OK Go Fast....

4

Dikhaai Deta Hai
Pathan ; Mujhy to Aankhen band kerny per bhi

dikhaai deta hai...


Friend Heraan ho ker : Kiya dikhaai deta hai??


Pathan :

(,")
<)(>
_/\_ Andheraa...:
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                          5                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                    Nurse to Doctor : Sir aap ki Wife aap ko

Fone per Kiss kerna chahti hen.


Doctor : Me busy hun, Tum receive kerlo,

Me tum se le lun ga...;-p :-)                                                                                                                                                                                                                                                                                                 6                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     Mother : Beti! Ab tum 16 saal ki ho gai ho,

Waqt aa gaya hai 'Suhag Raat" k 

baray me jan'ny ka..


Girl : Jee Ammi! Poochen kiya poochna hai...;-0 :-D

Check Result Free(Ab Apna result Free Internet pa dekhen) 9th 10th

Free Result 

Ab ap Ghar Baithy Free Result Dekh  Hain Internet pa woh bhi asani se ap pakistan k kisi bhi city main rehty hain ap ko asani sa result mil jaiga woh bhi kuch seconds main Ap yahan pa 9th class 10th result asani se dekh sakty hain ap ko karna ye hai ke ye Website Free Result Dekhen Chalain Aor Apni City Choose Karain apni Class choose Karain Phir Ap apna roll Number Dain To ap Result show hojaiga.
Ya website bahut hi helping full hai. 
Agar post pasand ay to thanx zaroor Kehna...!!!!!

Monday, 17 August 2015

Mere Marne KE Baad Ye Kahani Likhna


Mere Marne Ke Baad Meri Ye Kahani Likhna,
Kaisy huwi Barbaad Meri Ye Jawani Likhna,

Ye Likhna ke Use Intezar Boht tha Kisi ka,
Aakhri Saans ki kaisy huwi Rawani Likhna,

Jo Qasme'n khaayi thi Us ne Pyaar me,
Un Qasmo'n ka kya hwua Us par Meharbani Likhna,

Ye bhi Likhna ke Us ke Hont khushi ko Taras Gaye the,
KITNA Barsa Un Aankho se Paani Likhna,

OR ye bhi Likhna ke Dua Deta tha Tujhe,
BAHAR the kafan se Haath ye NISHANI Likhna....

Hifazat ki Dua

Hifazat Ki Dua


Sunday, 16 August 2015

best urdu kahani


یک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک شخص کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔
یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔
الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔
وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا -
آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے سٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رھے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا- جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور قبرپر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ھے"
اللہ پاک نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ھے:
والعصر،ان الانسان لفی خسر...
آج ہمارے دائرے بھی بہت بڑے ھوگئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتے ہیں
اللہ پاک ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے
اور خاتمہ بالخیر فرمائے (آمین

Always Love your Parrents


دھيان سے پڑھنا آنکھوں میں پانی آ جائے گا.
بڑے غصے سے میں گھر سے چلا آیا ..
اتنا غصہ تھا غلطی سے پاپا کے جوتے پہن کے نکل گیا
میں آج بس گھر چھوڑ دوں گا، اور تبھی لوٹوگا جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا ...
جب موٹر سائیکل نہیں دلوا سکتے تھے، تو کیوں انجینئر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں .....
آج میں پاپا کا پرس بھی اٹھا لایا تھا .... جسے کسی کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتے تھے ...
مجھے پتہ ہے اس پرس میں ضرور پیسوں کے حساب کی ڈائری ہوگی ....
پتہ تو چلے کتنا مال چھپا ہے .....
ماں سے بھی ...
اسی ہاتھ نہیں لگانے دیتے کسی کو ..
جیسے ہی میں عام راستے سے سڑک پر آیا، مجھے لگا جوتوں میں کچھ چبھ رہا ہے ....
میں نے جوتا نکال کر دیکھا .....
میری ایڈی سے تھوڑا سا خون رس آیا تھا ...
جوتے کی کوئی کیل نکلی ہوئی تھی، درد تو ہوا پر غصہ بہت تھا ..
اور مجھے جانا ہی تھا گھر چھوڑ کر ...
جیسے ہی کچھ دور چلا ....
مجھے پاوو میں گلہ گلہ لگا، سڑک پر پانی پھیل پڑا تھا ....
پاؤں اٹھا کے دیکھا تو جوتے تلی ہھٹی ہوئی تھی .....
جیسے تےسے لنگڑا كر بس سٹاپ پہنچا پتہ چلا ایک گھنٹے تک کوئی بس نہیں تھا .....
میں نے سوچا کیوں نہ پرس کی تلاشی لی جائے ....
میں نے پرس کھولا، ایک پرچی دکھائی دی، لکھا تھا ..
لیپ ٹاپ کے لئے 40 ہزار قرضے لئے
پر لیپ ٹاپ تو گھر میں میرے پاس ہے؟
دوسرا ایک جوڑ مڑا دیکھا، اس میں ان کے آفس کی کسی شوق ڈے کا لکھا تھا
انہوں نے شوق لکھا اچھا جوتے پہننا ......
اوہ .... اچھے جوتے پہننا ؟؟؟
پر انکے جوتے تو ........... !!!!
ماں گزشتہ چار ماہ سے ہر پہلی کو کہتی ہے نئے جوتے لے لو ...
اور وہ ہر بار کہتے "ابھی تو 6 ماہ جوتے اور چلایا جائے گا .."
میں اب سمجھا کتنے چلایا جائے گا
...... تیسری پرچی ..........
پرانا سکوٹر دیجئے ایکسچینج میں نئی موٹر سائیکل لے جائیں ...
پڑھتے ہی دماغ گھوم گیا .....
پاپا کا سکوٹر .............
اوهههه
میں گھر کی اور بھاگا ........
اب پاوو میں وہ کیل نہیں چبھ رہی تھی ....
میں گھر پہنچا .....
نہ پاپا تھے نہ سکوٹر ..............
اوههه نہیں
میں سمجھ گیا کہاں گئے ....
میں بھاگ .....
اور
ایجنسی پر پہنچا ......
پاپا وہیں تھے ...............
میں نے ان کو گلے سے لگا لیا، اور آنسووں سے ان کندھا بھیگ گیا ..
..... نہیں ... پاپا نہیں ........ مجھے نہیں چاہئے موٹر سائیکل ...
بس آپ نئے جوتے لے لو اور مجھے اب بڑا آدمی بننا ہے ..
وہ بھی آپ کے طریقے سے ....
"ماں" ایک ایسی بینک ہے جہاں آپ ہر احساس اور دکھ جمع کر سکتے ہیں ...
اور
"پاپا" ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جن کے پاس بیلنس نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خواب پورے کرنے کی کوشش ہے

Sad Poetry And Ghazal

Urdu sad Poetry

عروج پر ہے تمہارا موسم ۔1
خزاں میں تمکو خرید لیں گے ۔
بنو گے ہم سے رحم کے طالب ۔
نہ تم کو موقع مزید دیں گے ۔
ادا کے قصّے ہوئے پرانے ۔
جفا کا موسم ختم ہی سمجھو ۔
کریں گے تم سے حساب سارے ۔
نہ تم کو مہلت مزید دیں گے ۔
وفا کے لالچ میں آکے ہم نے ۔
لہو بھی اپنا سکھا دیا ہے ۔
فریب و مستی کے بدلے تمکو ۔
سزا بھی سن لو شدید دیں گے ۔

2:
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ
ﭘﯿﮑﺮ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﭽﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﺑﺮﻓﺎﺏ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ
ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﮮﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯﮐﮯﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﻋﻤﺮﻭﮞ ﮐﮯﻧﯿﻠﮯﭘﮭﯿﺮ ﮐﻮ
ﺯﺭﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺷﯿﺰﺍﺅﮞ ﮐﯽ
ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ ﺗﮏ ﺗﻮﮌﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﺳﮯﺍﺷﮏ ﺭﯾﺰ
ﺳﺮ ﺥ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮕﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﻧﯿﻨﺎﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎﭘﮩﻼ ﭼﺎﻧﺪ ﮈﮬﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ

3:
بہت دن سے ....
مجھے کچھ ان کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے,
مجھے ہنسنے نہیں دیتے,
مجھے رونے نہیں دیتے,
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے,
یوں لگتا ہے کہ جیسے تیز گرمی میں ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے,
گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہےبہت دن سے
مری آنکھوں میں سپنوں کی کوئی ڈولی نہیں اُتری,
بہت دن سے خیالوں میں‘ دبے پاؤں کوئی اپنا نہیں آیا ....
بہت دن سے
وہ سب جذبے
جو میری شاعری کے موسموں میں رنگ بھرتے تھے,
کہیں سوئے ہوئے ہیں,
مرے الفاظ بھی کھوئے ہوئے ہیں,
میں اُن کو ڈھونڈنے
اِس زندگی کے دشت میں نکلا تو ہوں لیکن
مجھے معلوم ہے
جذبے اگر اک بار کھو جائیں,
تو پھر واپس نہیں ملتے,
مجھے معلوم ہے پھر بھی
ابھی اک آس باقی ہے,
میں اب اُس آس کی انگلی پکڑ کرچل رہا ہوں,
بظاہر شبنمی ٹھنڈک مجھے گھیرے ہوئے ہے,
مگر میں جل رہا ہوں,
میں اب تک چل رہا ہوں ..


Urdu Sad Poetry


1:
Wo Tumhain Chorr Gaya To Hum Sy Ye DooriaN Kiun,,*

-Dost

*""Meri khushiYaa Aksar Mujh Sy ye Sawal karti hai.
.
2:

::
Main Tujhe Bhool ker B Na Bhula Sakoon Shayad...
..?..
 Tu Is Baat ko Hi Bhool Ja k Main Tujhe Bhool Jaonga.......!!
.-._.-.
'-._..!!!

3:

Buhat naraz H0 Shayad
J0 Hum K0 is tarha Bh0oL Baithae H0..'.

...Dost..!!

Na Ye Po0cha Kahan Pe H0.
Na Ye Jana K Kaise H0
NA ye jana K H0 B Ya Nahi...!!!

4:
: !!__Mujhy Maloom Hai Main Us K Bina Jee Nahi Sakta_! !
!__Haal Us Ka Bhi Yehi Hai Magar Kisi Aur K Leye__!!

5:

Us k Dill me ßht BheEr the...
.
YaroOo
.
Agr hm Khud Na nikaLty to NikaLy JaTy...


WhatsApp Trick in Urdu

Wow Whatsapp Best Trick
Asslam O alikum FrnDzz 
Kaise ho sab Umeed ha sab thek hongy to chlty ha thread ki taraf Ya bs ek choti se trick h Magr Boht Usefull ha Ziada Taar Dosto ko Nahe Maloom esi liye share krny jaa rha hun 
Dosto Hum jab whatsapp ma Group chat kr rhy hoty ha to yahan juSt 1 tick show hota h Or hume Pata nahe hota k hamara Msg kis kis ne seen kiya 
Boht he Aasan ha Apny jo Msg kiya ha Group ma For Example .... ( HellO FrnDZ ) Apny apny msg ko click kr k rakhna ha Show hoga Delet ka icone Forword ka icone or Sath ma. Aaisa Icone hoga (i) ussy click krna ha show ho jaiga k kis kis ne seen kiya  
Allah Hafiz Milty ha Ek New Thread k sath Boht he jald....
Plz batain post kaisi lagi apko

Friday, 14 August 2015

Window Xp Ki Key Find Karain(find the key Of window xp)


Window Xp Ki Key Find Karain(find the key Of window xp)

dosto kiya haal ha ap ky..
ajj mera theard ga ky ap ko ap ki winXp wli cd ki original key find karna btn btna ha jo ky both hi easy... ish ap windows ky feautes or kafi kuch enjoy kar skty hain.
please steps 1 -4 aamal karin ap ko smaj aa jaiye ge...
More Detail
XP ki cd insert karen or cd ya dvd rom jis mai disk hai us drive pe right click karen or search pe click kar dein
ab search mai UNATTEND likh k enter press kar dein, lein ji ek txt file aa jayegi, usko open karen us mai neechay product key d hogi, wahi apki window disk ki genuine key hai, isi ko window install karte waqt use karen or Microsoft k features ka mazay uthain... (checked by me)
Apko trick kaisi lagi agar kisi cheez ki zaroorat ho to comment karain...!!!

Tuesday, 11 August 2015

Mobilink free Internet Tricks in Urdu

Mobilink free internet tricks in urdu

Mobilink free internet ki tricks ham aj ap ko dengy jissy ap apney mobile nain opera mini aor uc browser handler pa free internet use karskty hain jo ke bilkul easy tarika hai wasy bhi mobilink ke net ki speed bahut hi behtar hai aor is free trick pa bhi kaafi achi speed deta hai ap ko karna ye hai 
To follow ke jie.Nya connection bnain .Name:Rafique Connection APN:Jazzconnect.mobilinkworld.com Proxy Address:uc6.ucweb.com Port:80 Homepage:ahmadsthoughts.wordpress.comAb uc handler open karo or yeh setting do.Proxy Type:HTTPProxy Server:0.facebook.comProxy Port: 80Save and enjoy
ab ap free internet use karein aor comment zaroor karen!!!


Monday, 10 August 2015

cooming soon

Cooming soon

Friends meney ye blog create kia hai ya website bahut hi use full hi hoogi ye website abhi theek se devolped nhi howi 1 month k bad website posting start hojaigi website men ye chezen hongi kisi cheez ki zaroorat ho to comment
Facebook tricks in urdu pc tricks in urdu 
Android tricks in urdu
News in urdu
Fitness tricks in urdu
Beauty tricks in urdu
Beauty tips in urdu 
Education news is urdu 
Urdu stories
Earning from internet course in urdu
Cooking tips in urdu 
Islamic batain 
And all information in urdu