Urdu sad Poetry
عروج پر ہے تمہارا موسم ۔1
خزاں میں تمکو خرید لیں گے ۔
بنو گے ہم سے رحم کے طالب ۔
نہ تم کو موقع مزید دیں گے ۔
ادا کے قصّے ہوئے پرانے ۔
جفا کا موسم ختم ہی سمجھو ۔
کریں گے تم سے حساب سارے ۔
نہ تم کو مہلت مزید دیں گے ۔
وفا کے لالچ میں آکے ہم نے ۔
لہو بھی اپنا سکھا دیا ہے ۔
فریب و مستی کے بدلے تمکو ۔
سزا بھی سن لو شدید دیں گے ۔
2:
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ
ﭘﯿﮑﺮ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﭽﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﺑﺮﻓﺎﺏ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ
ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﮮﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯﮐﮯﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﻋﻤﺮﻭﮞ ﮐﮯﻧﯿﻠﮯﭘﮭﯿﺮ ﮐﻮ
ﺯﺭﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺷﯿﺰﺍﺅﮞ ﮐﯽ
ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ ﺗﮏ ﺗﻮﮌﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﮨﻮﺍ ﺳﮯﺍﺷﮏ ﺭﯾﺰ
ﺳﺮ ﺥ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮕﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﻧﯿﻨﺎﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎﭘﮩﻼ ﭼﺎﻧﺪ ﮈﮬﻠﻨﮯﮐﮯ ﺳﺒﺐ
3:
بہت دن سے ....
مجھے کچھ ان کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے,
مجھے ہنسنے نہیں دیتے,
مجھے رونے نہیں دیتے,
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے,
یوں لگتا ہے کہ جیسے تیز گرمی میں ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے,
گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہےبہت دن سے
مری آنکھوں میں سپنوں کی کوئی ڈولی نہیں اُتری,
بہت دن سے خیالوں میں‘ دبے پاؤں کوئی اپنا نہیں آیا ....
بہت دن سے
وہ سب جذبے
جو میری شاعری کے موسموں میں رنگ بھرتے تھے,
کہیں سوئے ہوئے ہیں,
مرے الفاظ بھی کھوئے ہوئے ہیں,
میں اُن کو ڈھونڈنے
اِس زندگی کے دشت میں نکلا تو ہوں لیکن
مجھے معلوم ہے
جذبے اگر اک بار کھو جائیں,
تو پھر واپس نہیں ملتے,
مجھے معلوم ہے پھر بھی
ابھی اک آس باقی ہے,
میں اب اُس آس کی انگلی پکڑ کرچل رہا ہوں,
بظاہر شبنمی ٹھنڈک مجھے گھیرے ہوئے ہے,
مگر میں جل رہا ہوں,
میں اب تک چل رہا ہوں ..
No comments:
Post a Comment