گرمیوں کے دن تھے دوپہر کا وقت ہو رہا تھا- نادیہ جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی کیونکہ اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی- نادیہ اپنے گھر میں دو بہنوں سے چھوٹی تھی اور آٹھویں جماعت کی طالبعلم تھی- نادیہ بہت نازوں سے پلی تھی اور سب کی بہت لاڈلی تھی-
محبت انسان کو کبھی نہ کبھی ہو ہی جاتی ہے اور بعض اوقات نو عمری میں بھی ہو جاتی ہے- نادیہ بھی حارث کو بہت پسند کرتی تھی- حارث نادیہ سے بڑا تھا، وہ روز نادیہ کے گھر کے برابر میں قائم پارک میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے آتا تھا- یہی واحد موقع ہوتا تھا جب نادیہ حارث کو دیکھا کرتی تھی اور اسی لئے نادیہ کو گھر پہنچنے کی جلدی تھی- حارث نادیہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا بلکہ اسکو تو یہ پتہ بھی نہ تھا کہ کوئی اسے پارک کے اس پار کھڑکی سے دیکھ رہا ہے، اسکی بمشکل ہی اس پار نظر پڑتی تھی- دن اور پھر مہینے بیت گئے لیکن نادیہ حارث کو نہیں بتا سکی کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہے- ایک دن حارث نے پارک آنا چھوڑ دیا، نادیہ بہت پریشان ہوئی اور اسے تلاش کرنے کا سوچا پر اسے سمجھ نہ آیا کے وہ حارث کو کہاں تلاش کرے- اس نے اپنے ایک دوست کی مدد لینے کا سوچا جو اسکے پڑوس میں رہتا تھا اور حارث کا دوست تھا- اس نے نادیہ کو بتایا کہ اسکے کافی سارے دوست دوسرے شہر منتقل ہوگئے ہیں جن میں حارث بھی شامل تھا- نادیہ کا تو دل ہی ٹوٹ گیا- نادیہ کے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کہاں ڈھونڈے، کیا کرے- آخرکار اس نے سب قسمت پر چھوڑ کر حارث کو بھول جانے کا فیصلہ کیا- لیکن قسمت نے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا- نادیہ اور اسکی فیملی دوسرے شہر منتقل ہوگئے- چار سال گزر گئے اور نادیہ کیلئے حارث سے ملنا ایک خواب بن گیا تھا-
No comments:
Post a Comment